ہیوسٹن میں کشمیر کانفرنس، اقوام متحدہ سے قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

ہیوسٹن میں کشمیر کانفرنس کے دوران پاکستانی حکام اور مقررین اسٹیج پر موجود ہیں جبکہ پس منظر میں کشمیر کانفرنس کا بینر اور سامعین نظر آ رہے ہیں۔

ہیوسٹن میں کشمیر کانفرنس: اقوام متحدہ سے قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت

ہیوسٹن (خصوصی رپورٹ) — پاکستان کے قونصل جنرل آفتاب چوہدری کی صدارت میں یہاں منعقدہ ایک اہم کشمیر کانفرنس میں مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے اپنی قراردادوں پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔

کانفرنس کی میزبانی ہیوسٹن کے ممتاز کاروباری شخصیت اور سیاسی رہنما طاہر جاوید نے کی۔ چیف گیسٹ کے طور پر پاکستان پارلیمنٹیرین کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون موجود تھے جبکہ مہمان اعزازی فرینڈز آف کشمیر انٹرنیشنل کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے شرکت کی۔

آفتاب چوہدری کا صدارتی خطاب

قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے صدارتی خطاب میں کہا کہ کشمیر پاکستان کا شہ رگ ہے اور وہاں کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو دنیا خاموشی سے نہیں دیکھ سکتی۔

انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی قراردادوں کو کاغذی دستاویزات سے نکال کر عملی شکل دے۔

رانا قاسم نون کا خطاب

رانا قاسم نون نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو خود ارادیت کا حق دیا جائے۔

غزالہ حبیب کا اظہار خیال

غزالہ حبیب نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرینڈز آف کشمیر انٹرنیشنل عالمی سطح پر کشمیریوں کی آواز بننے کا کام کر رہی ہے۔

انہوں نے تمام مقررین کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

طاہر جاوید کا بیان

میزبان طاہر جاوید نے کانفرنس کے اختتام پر کہا کہ ہیوسٹن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ اس جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرتی رہے گی۔

تمام مقررین نے متفقہ طور پر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر تنازعے کے پرامن حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔

کانفرنس میں مقامی پاکستانی کمیونٹی کے بڑے پیمانے پر افراد نے شرکت کی اور مقررین کے بیانات کی بھرپور تائید کی۔

Related posts

Leave a Comment